سارے جہاں کا درد گویا ہمارے جگر میں ہے۔۔۔۔۔۔ بیرسٹر حمید باشانی خان
اس کے چہرے پر مایوسی کے گہرے سائے تھے۔ آواز غم سے بوجھل تھی۔ وہ بات کرتے کرتے اچانک رک جاتا۔ ٹھندی آہ بھرتا۔ اور دور کئی خلا میں گھورنے لگتا۔ وہ پاکستان میں محکمہ تعلیم میں ایک بہت بڑے عہدے پر فاہز تھا۔ بیس سالہ ملازمت کے بعد اس نے اچانک ملک چھوڑ کر کنیڈا آنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ یہ ایک راز تھا جس پر وہ بات کرنے سے گریز کرتا تھا۔ مگر یہ بات اب غیر متعلق تھی۔ اصل بات یہ تھی کہ وہ اب کنیڈین شہری تھا۔ اور بہت دکھی تھا۔ اسے کینڈا میں اپی سابقہ حثیت کے مطابق روزگار نہ ملا تھا۔ وہ ایک عرصے سے چھوٹے موٹے کام کر کے پیٹ پالتا تھا۔ اس کے معاشی مسائل دن بدن گھمبیر ہوتے جا رہے تھے۔ وہ کئی بینکون سے قرض لیکر کھا چکا تھا۔ اور اب دو دو جگہوں پر مزدوری کر کے سود ادا کر رہا تھا۔ اس سارے سلسلہ عمل کے دوران اس کی شخصیت بہت منفی ہو گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ کنیڈا دنیا کا بد تریں ملک ہے۔ اور اس نے یہاں آکر ایک سنگیں غلطی کی ہے۔ اس دن جب وہ میرے سامے بیٹھا کنیڈا کو بے نقط کی سنا رہا تھا تو میں نے اسے چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے کنیڈا کا اخبار نیشنل پوسٹ کھولا اور اس کے سامنے رکھا دیا۔ اخبار کی ایک بڑی سرخی یہ تھی کہ تازہ سروے کے مطابق کنیڈا دنیا کا دوسرا خوش ترین ملک ہے۔ یہ سروے روپورٹ گیلپ نے تیار کی تھی جو دنیا بھر میں ایک قابل اعتماد ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ لہزا اسکی رپورٹ میں غلطی کا مارجن بہت ہی کم ہوتا ہے۔ اس سروے کے مطابق پہلے نمبر پر ڈنمارک دوسرے پر کینڈا اور تیسرے پر سویڈن تھا۔ امریکہ کا بارواں اور افریکی ریاست چاڈ کا آخری نبمر ہے۔ اس سروے کے مطابق69% کنیڈین خوش اور آسودہ زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ڈنمارک میں خوش اور آسودہ لوگ72 فصید ہیں۔ رپورٹ پڑھنے کے بعد اس نے اخبار اور گلیب سروے پر لعنت بھجی اور اٹھ کر باہر نکل گیا۔ اس کے چہرے پر چھائی ہوئی مایوسی مزید گہری ہو چکی تھی۔ میں نے حیرت اور افسوس سے سوچا انسان اگر یاسیت اور قنقوطیت کا شکار ہو جائے۔تو وہ اپنے معروض سے لا تعلق ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی دنیا کو اپنی اصلی حالت میں نہیں دیکھ سکتا۔ اس کے اندر موجود بے پناہ مایوسی کی دھند اس کے ارد گرد کے ماحول کو دھندلا دیتی ہے۔ وہ حقائق سے لا تعلق ہو جاتا ہے۔ وہ سچائی کا سامنا کرنے سے قاصر ہو تا ہے۔ ھماری اس دنیا مین کوئی بھی ملک ایسا نہیں جسے جنت سے تشبہ دی جا سکے۔ کنیڈا کوئی جنت نہیں ہے۔ اس ملک میں ایک سرمایہ دارانہ معاشی اور سیاسی نظام ہے۔ اس نظام کی جو قدرتی خامیاں اور خرابیاں ہوتیں ہیں وہ اس میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہاں پے طبقاتی تقصیم ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے۔ اس ملک میں کچھ کم خوش نصیب لوگ بھی ہیں۔ غربت کی سطع سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہین۔ یہ کوئی مکمل مساوات پر مبنی غیر طبقاتی سماج نہیں ہے۔ ایسے نظام اور سماج کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جہدوجہد مین مصروف ہیں۔ بہت لوگوں کا ایمان ہے کہ ایک دن انسان اپنے اندر کی لالچ اور خود غرضی پر قابو پا لے گا۔ پھر زندگی میں یہ نا ہمواریاں نہ رہیں گی۔ وہ صبح ضرور آئے گی۔ مگر اس وقت جو کچھ ہمارے پاس ہے اس مین مایوسی کی کیا گجائش ہے ؟ ایک سرمایہ دارانہ جمہوریت جس قدر انسان دوست ہو سکتی ہے کنیڈا اس کی انتہاوں پر چھو رہا ہے۔ یہاں اتنا سماجی اور معاشی انصاف ہے جتنا کسی بھی سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ممکن ہو سکتا ہے۔ کوئی چیز مکمل نہں ہوتی۔ اور کنیڈا بھی کوئی استشنا نہین ہے۔ مگر جو شخص یہاں خوش نہ رہ سکے وہ دنیا کہ کسی ملک، کسی، سماج اور کسی نظام میں بھی خوش نہیں رہ سکتا۔ حد یہ ہے کہ اس ملک میں ہم جیسے لوگ بھی خوش ہیں۔ ہم جو بقول شاعر
خنجر چلے کسی پے تڑپتے ہیں ہم میر سارے جہاں کا درد گویا ہمارے جگر میں ہے۔